کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے ایمنسٹی، 14 اپریل سے تعمیرات اور متعلقہ شعبوں کا لاک ڈاؤن غیرموثر، سیمنٹ، ا سٹیل کے سوا تمام منسلک شعبوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم ، دیگر میں چھوٹ

سلام آباد(ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے کے لئے تاریخی ایمنسٹی اسکیم ‘ کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈکے قیام‘ تعمیراتی شعبےاور منسلک سیکٹرز کو 14 اپریل سے کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ دے رہے ہیں۔

رواں سال تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ان کا ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائے گا ‘ فکسڈ ٹیکس نافذ ہو گا، سیمنٹ اور اسٹیل انڈسٹری کے سوا تمام تعمیراتی شعبوں پر پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیاپاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو 90 فیصد ٹیکس ریبیٹ دیا جائے گا اور وہ صرف اپنے منصوبوں پر ٹیکس کی مجموعی رقم کا 10 فیصد ادا کریں گے‘نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے لئے 30 ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں‘ گھر فروخت کرنے والوں سے کیپیٹل گین ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا سارے ٹیکس کو 2 فیصد پر لے آئے ہیں‘باقی صوبے بھی ٹیکس مراعات دیں گے‘ اس وقت اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ وائرس کتنی تیزی سے پھیلے گا لیکن کوئی یہ نہ سمجھے کہ پاکستان میں کورونا کا خطرہ نہیں ہے۔

ہمیں نہیں پتہ دو ہفتے بعد کیا ہوگا؟ 22 کروڑ لوگوں کو بند نہیں کر سکتے‘یہ ناممکن چیز ہے‘ پاکستان میں ایک طرف کورونااور دوسری طرف بھوک ہے‘خوف ہے یہاں لوگ بھوک سے مریں گے۔

ایسے مقامات پر مکمل لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے جہاں عوام کے اکٹھے ہونے کا خدشہ ہے جیسے کہ اسکول، کالجز، شادی ہالز اور کھیلوں کے میدان ہوں۔ساری قوم مل کر کورونا کو شکست دے گی، خیراتی اداروں کی سرگرمیوں کو مربوط بنائیں گے۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے لگے کہ وفاق کوئی زبردستی کر رہا ہےپرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں سے متعلق پالیسی بنا رہے ہیں‘ بجلی اور گیس کے بل کی ادائیگی میں تین مہینے کا ریلیف دیا ہے، کسی کا کنکشن منقطع نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں تعمیراتی شعبے کے لئے مراعاتی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کیا۔

عمران خان نے کہا کہ نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم میں تعمیرات کرنے والوں کو 90 فیصد ٹیکس کی رعایت دیں گے‘ اسٹیل اور سیمنٹ کے علاوہ تعمیراتی مواد اور خدمات پر سروسز ٹیکس معاف کیا جارہا ہے۔

عمران خان نے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت 1 کروڑ لوگ ابھی تک مالی مدد کے لیے رجوع کرچکے ہیں لیکن صرف اس طریقے سے غریب طبقے کی مدد کرنا اور بقا ممکن نہیں۔

ملک بھر میں تعمیراتی ٹیکس کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ ہم صوبوں سے رابطہ کررہے ہیں اور ان سے مل کر سیلز ٹیکس کم کررہے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا سارے ٹیکس کو 2 فیصد پر لے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں سے رابطہ کرکے ساتھ چلیں گے جو صوبہ سمجھتا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی لانا چاہتاہے تو ہم نے ان سے کہا ہوا ہے لیکن پنجاب اور خبیر پختونخوا اس اسکیم کے تحت چل رہے ہیں اور سندھ بھی کسی حدتک اس کیساتھ چل رہا ہے۔

احساس پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ بیس لاکھ 20خاندانوں کو 12ہزار روپے پہنچارہے ہیں‘ چند دنوں میں لوگوں کو چیک ملنا شروع ہوجائیں گے ‘ہمیں کوئی گارنٹی نہیں ہے 2 یا 4 ہفتے بعد پاکستان میں کیا صورت حال ہوگی ۔ کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کہ وائرس کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے اور 14 اپریل کو جائزہ لیں گے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ سمجھنا کہ پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں اس لیے اموات کم ہوئی ہیں تو یہ سوچ ہی خطرناک ہے‘ہمیں بالکل خطرہ ہے اور عوام سے کہتا ہوں کہ پوری توجہ دیں اور ہر قسم کی احتیاط کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ شہروں کے اندر برے حالات ہیں اور یہ صرف ہمارے نہیں پوری دنیا کے ہیں۔اگر ہم مکمل لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو کیا ہم غریبوں کی بنیادی ضروریات پوری کرسکیں گے؟ قوم فیصلہ کرے کہ اس وائرس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اس وائرس کے خلاف پاکستانیوں کی قوت مدافعت زیادہ ہے یہ سوچ خطرناک ہے، ہمیں ہر قسم کی احتیاط کرنا ہوگا۔ یہ بہت خطرناک وائرس ہے ‘کوئی نہیں کہہ سکتا یہ کتنی تیزی سے پھیلے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *